آن لائن فراڈ میں خواتین زیادہ نشانہ، تصاویر شیئر نہ کریں: محسن نقوی
- محسن نقوی نے خواتین کو بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے تصاویر شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی۔
- این سی سی آئی اے لاہور میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے ہراسانی کی شکایات پیش کیں۔
- پنجاب میں صرف 61 اہلکاروں کی موجودگی پر ادارے کی نفری اور استعداد بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کے بیشتر مقدمات میں خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو متنبہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز ہرگز شیئر نہ کریں، کیونکہ ملزمان انہی کا غلط استعمال کر کے بلیک میلنگ کرتے ہیں۔
لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے زونل ہیڈ کوارٹرز میں کھلی کچہری کے دوران وفاقی وزیر نے شہریوں کی شکایات سنیں۔ اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد نے آن لائن ہراسانی اور مالی فراڈ کے حوالے سے شکایات درج کروائیں۔ محسن نقوی نے عوام کو خبردار کیا کہ بیماری کا بہانہ بنا کر رقم مانگنے والے اجنبی افراد کو پیسے نہ بھیجیں۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ پنجاب میں این سی سی آئی اے کے پاس صرف 61 اہلکار موجود ہیں اور ایک افسر پر ہزاروں کیسز کا بوجھ ہے۔ انہوں نے ادارے کی استعداد کار بڑھانے، سائبر پولیس کو متحرک کرنے اور عوام میں سائبر کرائم سے متعلق آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔




قارئین کی رائے
فیس بک اور انسٹاگرام پر اس خبر پر کیے گئے تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…