دنیا

میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے روس اور یوکرین میں عارضی جنگ بندی

خلاصہ
  • میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے روس اور یوکرین نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔
  • اولیشکی میں جنگ بندی 29 اکتوبر سے نافذ ہوگی تاکہ امداد اور انخلا ممکن ہو۔
  • متاثرہ شہر میں بزرگوں کو خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی اشد ضرورت ہے۔

واشنگٹن: امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز 29 اکتوبر سے ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کی منظوری دی ہے تاکہ وہاں انسانی امداد پہنچائی جا سکے اور مخصوص محفوظ راستے سے شہریوں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔ فروری 2022 سے روسی قبضے میں موجود اس جنوبی یوکرینی قصبے کے شہریوں کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اولیشکی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور فرنٹ لائن پر واقع یہ شہر تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں باقی رہ جانے والی آبادی زیادہ تر بزرگوں پر مشتمل ہے جنہیں فوری طور پر طبی امداد، ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی کی سخت ضرورت ہے۔

تصویر: Régine Mahaux / Wikimedia Commons (CC BY 3.0)

خبر شیئر کریںواٹس ایپفیس بکایکس
ایسی ہی خبروں کے لیے فالو کریںفیس بکانسٹاگرام

فیس بک اور انسٹاگرام پر اس خبر پر کیے گئے تبصرے

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…